
حج کا مسنون طریقہ ویڈیو بیان
July 15, 2019
بار بار حج و عمرہ کرنے کی فضیلت
July 26, 2019حطیم کا خانہ کعبہ سے کیا تعلق ہے؟
“حجرِ اسماعیل” یا “حطیم” مسجد الحرام کے مطاف میں خانہ کعبہ کے شمال میں واقع نصف دائرے کی شکل کی ایک دیوار ہے۔ اس کے حوالے سے متعدد تاریخی روایات ہیں اور علماء کرام اور محققین کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ خانہ کعبہ سے علیحدہ نہیں بلکہ اسی کا ایک حصہ ہے۔ حجرِ اسماعیل یا حطیم بیت اللہ کا ایک حصہ ہے۔ اس کے اندر سے طواف کے لیے گزرنا درست عمل نہیں بلکہ اس کے پیچھے سے طواف کرنا چاہیے۔
کئی احادیث نبویہ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس کے احاطے کے اندر نماز پڑھنا فضیلت میں خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے جیسا ہے۔
حجرِ اسماعیل کے مختلف نام
تاریخی مصادر و مراجع میں “حجرِ اسماعیل” کے کئی نام آئے ہیں، مگر ان میں مشہور ترین پانچ نام ہیں۔ ان میں پہلا نام “الحجر” ہے۔ بارش یا خانہ کعبہ کی چھت کو غسل دینے کے دوران میزابِ رحمت سے پانی حجرِ اسماعیل کے احاطے کے اندر ہی گرتا ہے۔
اس کا دوسرا نام “جدر” اور تیسرا نام “حجرِ اسماعیل” ہے۔ تیسرے نام کی توجیہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مقام کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے گود کے طور پر چُنا تھا۔
چوتھا نام “حفرہِ اسماعیل” ہے۔ بیت اللہ کے ستون کھڑے کرنے اور بنیادیں ڈالنے سے قبل اس مقام پر ایک گڑھا تھا۔
پانچواں نام “الحطیم” ہے۔ خانہ کعبہ سے بظاہر علیحدہ نظر آنے کے سبب اس کو یہ نام دیا گیا۔
حطیم کی موجودہ ہیئت
اسلامی تاریخ کے خلفاء نے وقت کے ساتھ اس کی ہیئت میں تبدیلی کی، جس کے بعد آج یہ موجودہ صورت میں موجود ہے۔
عباسی دور میں خلیفہ مہدی نے اس حصے کو دوبارہ خانہ کعبہ میں شامل کرنے کا ارادہ کیا، مگر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں مذکورہ عمل سے روک دیا تاکہ خانہ کعبہ اور حجرِ اسماعیل تعمیر اور انہدام کی جگہ نہ بن جائیں۔ اس لیے کہ خانہ کعبہ اور حجرِ اسماعیل کی موجودہ شکل وہ ہے جس حالت میں رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا اور ان کے گرد طواف کیا۔
مکہ مکرمہ اور عمرہ سے متعلق مزید معلومات
عمرہ سروسز |
عمرہ کا مسنون طریقہ |
زیارات مکہ و مدینہ |
عمرہ پیکجز



