
مسجد جمعہ مدینہ منورہ
August 25, 2019
جبل احد اور شہداء احد
September 7, 2019وادی نیلم پورے پاکستان میں حسین ترین وادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنت نظیر کشمیر کی یہ خوبصورت وادی اسلام آباد سے تقریباً 5 سے 6 گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ آزاد کشمیر کا یہ ضلع بھارتی مقبوضہ کشمیر کے تین اضلاع بارامولا، کپواڑہ اور بانڈی پورہ سے متصل ہے، جبکہ دوسری طرف گلگت بلتستان اور مغرب میں خیبر پختونخوا سے اس کی حدود ملتی ہیں۔
بانڈی پورہ سے آنے والا دریا کشن گنگا تاؤبٹ کے مقام پر وادی نیلم میں داخل ہوتا ہے۔ کشن گنگا آزاد کشمیر میں داخل ہوتے ہی دریائے نیلم کہلاتا ہے۔ نیلم کے قابلِ ذکر مقامات میں چلہانہ، باڑیاں، لیسوا، جورا، کنڈل شاہی، کٹن، بابون ویلی، شاہکوٹ، آٹھمقام، کیرن، اپر نیلم، نگدر، لوات، دواریاں، رتی گلی جھیل، دودھنیال، شاردہ، سرگن، کیل، اڑنگ کیل، پھلاوئی، جانوئی، ہلمت، کریم آباد، سرداری، تاؤبٹ، شونٹھڑ ویلی اور چٹھا کٹھہ جھیل شامل ہیں۔ کنڈل شاہی اور دھنی کی آبشاریں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اڑنگ کیل اور اپر نیلم گاؤں کا شمار خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔
اڑنگ کیل سے آزاد کشمیر کی بلند چوٹی سروالی کا بھی نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ سروالی کی چوٹی کے علاوہ گنجا پہاڑ، نی مالی، چونچ پہاڑی اور ہری پربت کی پہاڑی بھی مشہور اور بلند پہاڑوں میں شامل ہیں۔ شاردہ کے مقام پر بدھ مت دور کی ایک تاریخی یونیورسٹی بھی ہے جسے دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے سیاح آتے ہیں۔ یہاں آثارِ قدیمہ کے کئی تاریخی مقامات موجود ہیں، جنہیں مزید دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔
شاردہ سے ایک راستہ سرال جھیل اور نوری ٹاپ سے وادی ناران میں داخل ہوتا ہے۔ وادی ناران سے سیاح اسی راستے نیلم میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ ٹریک انتہائی خوبصورت ہے جو جولائی کے دوسرے ہفتے تک سیاحوں کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ ٹریکنگ کے شوقین سیاح اس ٹریک کو ضرور اپنے ٹور کا حصہ بناتے ہیں۔
رتی گلی جھیل، ہنس راج جھیل، سرال جھیل، چٹھا کٹھہ جھیل اور شونٹھڑ جھیل وادی نیلم کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شامل ہیں۔
تاؤبٹ کا خوبصورت گاؤں وادی نیلم کا آخری گاؤں ہے، جس کی ایک طرف مقبوضہ کشمیر اور دوسری طرف گلگت بلتستان کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں سے ایک راستہ گارگل اور دیوسائی کی طرف بھی نکلتا ہے۔
وادی نیلم میں ہر سال لاکھوں سیاح اس وادی کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں اور اس تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔



