
وادی نیلم آزاد کشمیر
August 27, 2019
کسوا ٹاور ہوٹل مکہ مکرمہ
October 2, 2019مسلمانوں کا بچہ بچہ جبلِ اُحد اور جنگِ اُحد سے واقف ہے۔ اسی لیے جب کوئی مسلمان پہلی بار مدینہ منورہ جاتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ضرور جبلِ اُحد اور مقامِ شہدائے اُحد کی زیارت کرے۔ کم و بیش 1077 میٹر اونچا، 7 کلومیٹر لمبا اور 3 کلومیٹر چوڑا یہ پہاڑ مدینہ طیبہ کا سب سے بڑا اور اونچا پہاڑ ہے۔ مسجدِ نبوی یہاں سے صرف 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
جبلِ اُحد کے اس نام کا سبب کئی روایتوں میں مذکور ہے۔ ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ جبلِ اُحد کا دیگر پہاڑوں کی نسبت امتیازی حیثیت کا حامل ہونا ہے۔ یہ پورا سلسلہ ایک غیر منقسم ٹکڑی کی مانند ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے نام کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی نسبت قومِ جالوت یعنی عمالقہ کے ایک شخص کی جانب ہے جس کا نام “احد” تھا۔ اس شخص نے جبلِ اُحد کے قریب قیام کیا تو اس حوالے سے پہاڑ کا نام پڑ گیا۔
اسلامی تاریخ میں اس پہاڑ کی بڑی اہمیت ہے۔ بلاشبہ یہ سرخ رنگ کا پہاڑ ہے، مگر یہ عام پہاڑوں جیسا نہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اُحد ایک ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘
صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان بن عفان رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ اُحد پہاڑ کے اوپر تشریف لے جاتے ہیں۔ اُحد پہاڑ ہلنا شروع کر دیتا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے ہیں، اپنا قدم مبارک اٹھاتے ہیں اور پہاڑ پر اسے مارتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’تھم جاؤ اُحد، ثابت قدم ہو جاؤ۔‘‘
اُحد پہاڑ کو جب احساس ہوتا ہے کہ حبیبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک اس پر پڑے ہیں تو وہ ہلنے سے رک جاتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اُحد تھم جاؤ، تمہارے اوپر اس وقت ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے سوا کوئی نہیں۔‘‘
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ جب آپ وادیٔ ’’قرن‘‘ سے گزرے تو ارشاد فرمایا:
’’میں تو جلد از جلد تیزی سے مدینہ جانے والا ہوں۔ جس کا دل چاہے وہ بھی میرے ساتھ تیز رفتاری سے چل پڑے، جو چاہے بے شک ٹھہر جائے۔‘‘
اس واقعہ کے راوی ابو حمید کہتے ہیں کہ ہم بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑے۔ جب ہم مدینہ شریف کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا:
’’یہ اُحد ہے، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے:
’’اُحد پہاڑ ہم سے محبت کرتا اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ جنت کے پہاڑوں میں سے ہے۔‘‘
سن 3 ہجری میں غزوۂ اُحد ہوا۔ مسلمانوں کو اس غزوے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 70 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہو گئے۔ ان کی قبریں جبلِ اُحد کے دامن میں بنائی گئیں۔ ان شہداء میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور دودھ شریک بھائی، سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب بھی شامل ہیں۔ وہ بھی اسی میدان میں مدفون ہیں۔ ان میں سے سوائے حمزہ رضی اللہ عنہ کے کوئی قبر معلوم نہیں کہ کس کی ہے۔



