
عمرہ کا مسنون طریقہ
November 27, 2023
Discovering the Allure of Thailand
December 7, 2023حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور صاحبِ استطاعت پر زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
《جو اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھے وہ اس کا حج کرے》 [آل عمران: 96]
حج کے اقسام اور ان کی تعریفیں
1۔ حج تمتع
یہ ہے کہ حاجی حج کے مہینوں (شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) میں عمرہ کا احرام باندھے، عمرہ کرکے حلال ہو جائے، پھر اسی سال حج کا دوبارہ احرام باندھے اور قربانی کرے۔
2۔ حج قِران
یہ ہے کہ حاجی حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھے اور 10 ذوالحجہ تک احرام نہ کھولے، قربانی کا جانور ساتھ لے کر جائے اور سعی کرے۔
3۔ حج اِفراد
یہ ہے کہ حاجی صرف حج کا احرام باندھے اور 10 ذوالحجہ تک احرام میں ہی رہے اور قربانی نہ کرے، اس لیے کہ حج افراد کرنے والا قربانی نہیں دے گا۔ ایک سعی کرے، خواہ طوافِ قدوم کے ساتھ یا بعد میں طوافِ افاضہ کے ساتھ۔
تینوں قسم کے حاجیوں کے لیے عمرہ کرنے کے مختلف مراحل
1۔ حج تمتع کرنے والا: احرام باندھے، طواف کرے، سعی کرے، بال کٹوائے اور احرام کھول کر عام کپڑے پہن لے۔ اس سے معتمر کا عمرہ ہو گیا۔ حج کے لیے 8 ذوالحجہ کو پھر اپنے مقام سے ہی احرام باندھ کر ممکن ہو تو ظہر سے پہلے پہلے منیٰ پہنچ جائے۔
2۔ حج قِران کرنے والا: احرام باندھے، طواف کرے، سعی کرے، حجامت نہ بنوائے بلکہ اسی احرام میں باقی رہے، پھر 8 ذوالحجہ کو ممکن ہو تو ظہر سے پہلے پہلے منیٰ پہنچ جائے۔
3۔ حج اِفراد کرنے والا: احرام باندھے، طواف کرے، چاہے تو سعی بھی کرے یا طوافِ افاضہ کے ساتھ سعی کرے، پھر 8 ذوالحجہ کو منیٰ پہنچ جائے۔
ایام حج (8، 9، 10 ذوالحجہ) میں کیے جانے والے اعمال
1۔ 8 ذوالحجہ (یوم ترویہ): اس دن حاجی منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں بغیر جمع کیے، اپنے اپنے وقت پر، قصر کرکے پڑھیں۔
2۔ 9 ذوالحجہ (یوم عرفہ): اس دن حاجی عرفات میں ظہر و عصر ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ جمع بین الصلاتین قصر کرکے (دو دو رکعت) پڑھے، پھر سورج غروب ہونے تک دعا و عبادات میں مشغول رہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد عرفات سے نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے مزدلفہ پہنچے۔ جب مزدلفہ پہنچ جائے تو فوراً ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز جمع کرکے قصر ادا کرے، پھر آرام کرے۔
3۔ 10 ذوالحجہ (یوم نحر): حاجی کو چاہیے کہ اس دن صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد ذکر و اذکار کرتے ہوئے سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہو جائے۔ سورج نکلنے کے بعد صرف بڑے جمرہ کو سات کنکریاں مارے۔
حج تمتع کرنے والا: قربانی کرے، سر کے بال کٹوائے (قصر کرے) یا منڈوائے (حلق کرے)، طوافِ افاضہ کرے اور سعی بھی کرے۔
حج قِران کرنے والا: قربانی کرے، سر کے بال کٹوائے (قصر کرے) یا منڈوائے (حلق کرے)، طوافِ افاضہ کرے۔ اگر پہلے سعی نہیں کی ہے تو آج سعی کرے۔
حج اِفراد کرنے والا: سر کے بال کٹوائے (قصر کرے) یا منڈوائے (حلق کرے)، طوافِ افاضہ کرے۔ اگر پہلے سعی نہیں کی ہے تو آج سعی کرے۔
نوٹ: اب تینوں قسم کے حاجیوں پر تمام طرح کی پابندیاں ختم ہوگئیں، لیکن ابھی بھی اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کر سکتے۔
ایام تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ) میں کیے جانے والے اعمال
1۔ 11 ذوالحجہ: اس دن حاجی زوال کے بعد تینوں جمرات کو بالترتیب، پہلے چھوٹے، پھر درمیانے، پھر بڑے جمرہ کو، سات سات کنکریاں ماریں۔
2۔ 12 ذوالحجہ: اس دن بھی حاجی زوال کے بعد تینوں جمرات کو بالترتیب سات سات کنکریاں ماریں۔ اگر کوئی حاجی 12 ذوالحجہ کو کنکریاں مار کر جانا چاہے تو جا سکتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ وہ غروب آفتاب سے پہلے پہلے منیٰ سے نکل جائے۔
3۔ 13 ذوالحجہ: اس دن بھی حاجی زوال کے بعد تینوں جمرات کو بالترتیب سات سات کنکریاں مارے۔ اس کے بعد حاجی طوافِ وداع کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ حاجی جب اپنے وطن جانے کا ارادہ کر لے تو مکہ مکرمہ سے نکلنے سے پہلے طوافِ وداع کر لے۔
طوافِ وداع: طواف کے سات چکر پورے کرکے مقام ابراہیم کے پاس یا جہاں جگہ ملے، وہیں دو رکعتیں ادا کر لے۔
نوٹ: حاجی کو طواف یا سعی کی گنتی میں شک ہو جائے تو جس گنتی پر اسے یقین ہو، اس پر اعتماد کرتے ہوئے باقی گنتی مکمل کرے۔
ارکان و واجباتِ حج و عمرہ
ارکانِ عمرہ
- احرام باندھنے کے بعد نیت کرنا اور «اللهم لَبَّيْك عُمْرَةً» کہنا۔
- بیت اللہ کا طواف کرنا۔
- صفا و مروہ کی سعی کرنا۔
واجباتِ عمرہ
- میقات سے احرام باندھنا۔
- بال کٹوانا (قصر کرنا) یا سر منڈوانا (حلق کرنا)۔
ارکانِ حج
- احرام باندھنے کے بعد نیت کرنا اور «اللهم لَبَّيْك حَجًّا» کہنا۔
- میدان عرفات میں ٹھہرنا۔
- طوافِ افاضہ کرنا۔
- مزدلفہ میں نماز فجر تک رات گزارنا اور فجر کی نماز بھی مزدلفہ ہی میں ادا کرنا۔
- صفا و مروہ کی سعی کرنا۔
واجباتِ حج
- میقات سے احرام باندھنا۔
- عرفات میں سورج غروب ہونے تک ٹھہرنا۔
- مزدلفہ میں رات گزارنا۔
- ایام تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ) کی راتیں منیٰ میں گزارنا۔ (یاد رہے یہ احناف کے نزدیک سنت ہے۔)
- جمرات کو بالترتیب کنکریاں مارنا۔
- سر منڈوانا (حلق کرنا) یا مکمل سر کے بال چھوٹے کروانا (قصر کرنا)۔
- طوافِ وداع کرنا۔
بعض دیگر متفرق مسائل
1۔ خواتین کو اگر حالتِ احرام میں حیض و نفاس آ جائے تو بیت اللہ کے طواف کے علاوہ بقیہ حج و عمرہ کے تمام اراکین و واجبات اسی حالت میں ادا کر لیں۔
2۔ اگر کوئی مریض یا کوئی ایسا شخص جو اپنی جان کے لیے خوف محسوس کرتا ہو کہ اس کا حج پورا ہوگا یا قبل از وقت ہی وفات پا جائے گا، تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ احرام باندھتے وقت یہ دعا پڑھے:
«اللهم مَحَلِّي حَيْثُ حَسَبْتَنِيْ»
’’اے اللہ! میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک لے۔‘‘
3۔ حج کرنے والے کو احرام باندھنے کے بعد بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے ایک بار یہ الفاظ پڑھنا مسنون ہے:
«اللهم هذه حَجَّةً لا رِياءَ فيها ولا سُمْعَةَ»
اے اللہ! میرا اس حج سے نہ دکھاوا مقصود ہے اور نہ شہرت مطلوب ہے، یعنی یہ عمل خالص تیری رضا کے لیے ہے۔
بعض اہم اصطلاحات کی تعریفیں
اضطباع: طوافِ عمرہ میں احرام کی چادر دائیں کندھے کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا مسنون ہے۔
رمل: عمرہ (طوافِ قدوم) کے پہلے تین چکروں میں کندھے اکڑا کر تیز تیز اور چھوٹے قدم چلنا مسنون ہے۔
استلام: طواف شروع کرنے سے پہلے «بسم الله، الله أكبر» کہتے ہوئے حجر اسود کو چھو کر بوسہ دینا یا اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرنا۔ یہ عمل طواف کے ہر چکر میں سنت ہے۔



