
ایراوان آبشار(Erawan Falls)تھائی لینڈ
May 15, 2019
مکہ مکرمہ تاریخ کے آئینے میں
June 6, 2019مدینہ منورہ میں بہت سی ایسی مساجد ہیں جو اسلامی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ مدینہ منورہ آنے والے حجاج اور معتمرین کی کوشش ہوتی ہے کہ یہاں موجود ایسی مساجد اور تاریخی مقامات دیکھیں جو رسول کریم ﷺ کی ذاتِ مبارک یا تاریخِ اسلام سے وابستہ رہے ہیں۔ انہیں میں سبعہ مساجد یعنی سات مساجد کا مجموعہ بھی شامل ہے۔
ان کی تعداد درحقیقت چھ ہے، مگر تاریخی اہمیت کے حامل یہ مقامات سات مساجد کے نام سے مشہور ہیں۔ مؤرخین کے مطابق مسجدِ قبلتین کو بھی، جو ان چھ مساجد کے مجموعے سے تقریباً ایک کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، بقیہ مساجد کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ جو کوئی بھی ان چھ مساجد کی زیارت کرتا ہے، وہ اسی سفر میں مسجدِ قبلتین کا دورہ بھی کر لیتا ہے۔ اس طرح یہ تعداد سات ہو جاتی ہے۔
مجموعے کی چھ مساجد مدینہ منورہ میں جبلِ سلع کی مغربی سمت اُس مقام کے نزدیک واقع ہیں جہاں غزوۂ خندق کے موقع پر مسلمانوں نے مدینہ منورہ کے دفاع کے واسطے مشہور خندق کی کھدائی کی تھی۔ یہ معرکہ غزوۂ احزاب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ مقامات اس غزوہ کے دوران مربوط انداز سے زیرِ نگرانی تھے۔ لہٰذا ہر مسجد کو اس سے متعلق شخصیت کے نام سے منسوب کر دیا گیا، سوائے مسجد الفتح کے جس کو مسلمانوں کی فتح کے ساتھ منسوب کیا گیا۔ شمال سے جنوب کی جانب یہ مساجد بالترتیب اس طرح ہیں: مسجد الفتح، مسجد سلمان فارسی، مسجد ابوبکر صدیق، مسجد عمر بن خطاب، مسجد علی بن ابی طالب اور مسجد فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
1- مسجد الفتح
ان میں سب سے بڑی مسجد الفتح کو مسجدِ الاحزاب یا مسجد الاعلیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ جبلِ سلع کے مغرب میں واقع ہے۔ مسجد الفتح کی وجۂ تسمیہ اس مقام پر سورۂ فتح کا نازل ہونا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مدینہ منورہ کی گورنری کے دور میں (87-93 ہجری) اسے پتھروں سے تعمیر کرایا تھا۔ بعد ازاں 575 ہجری میں وزیر سیف الدین ابو الہیجاء کے حکم پر اس کی ترمیم ہوئی۔ عثمانی سلطان عبدالمجید اوّل کے دور میں 1268 ہجری، مطابق 1851ء، میں اس مسجد کی ازسرِنو تعمیر کی گئی۔
2- مسجد سلمان فارسی
دوسری مسجد کا نام مسجد سلمان فارسی ہے جو مسجد الفتح کے جنوب میں صرف 20 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ معروف صحابی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے نام پر ہے جنہوں نے مدینہ منورہ کے دفاع کے واسطے خندق کھودنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس مسجد کو بھی عمر بن عبدالعزیز کے دور میں تعمیر کیا گیا، وزیر سیف الدین کے حکم سے اس کی ترمیم ہوئی اور پھر سلطان عبدالمجید اوّل کے زمانے میں ازسرِنو تعمیر کی گئی۔
3- مسجد ابوبکر
تیسری مسجد کا نام مسجد ابوبکر ہے جو مسجد سلمان کے جنوب مغرب میں 15 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ سابقہ مذکورہ مساجد کے ساتھ تعمیر ہوئی۔ اب اسے توسیع کے واسطے منہدم کر دیا گیا ہے۔
4- مسجد عمر بن خطاب
مسجد ابوبکر کے جنوب میں 10 میٹر کے فاصلے پر مجموعے کی چوتھی مسجد یعنی مسجد عمر بن خطاب واقع ہے۔ اس کا طرزِ تعمیر مسجد الفتح سے مطابقت رکھتا ہے اور غالباً اس کی تعمیر اور ترمیم مسجد الفتح کے ساتھ ہی مکمل کی گئی ہو گی۔
5- مسجد علی بن ابی طالب
اس ترتیب میں پانچویں مسجد کا نام مسجد علی بن ابی طالب ہے۔ یہ مستطیل شکل میں ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس کی لمبائی 8.5 میٹر اور چوڑائی 6.5 میٹر ہے۔ غالباً یہ مسجد بھی مسجد الفتح کے ساتھ ہی تعمیر ہوئی اور اس کے ساتھ ہی ترمیم کے عمل سے گزری۔ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس مقام پر عمرو بن ود العامری کو قتل کیا تھا جس نے غزوۂ احزاب کے دوران اس خندق کو عبور کر لیا تھا۔
6- مسجد فاطمہ
اس مجموعے میں چھٹا نمبر مسجد فاطمہ کا ہے۔ تاریخی کتب میں یہ مسجد سعد بن معاذ کے نام سے موجود ہے۔ یہ اس مجموعے کی سب سے چھوٹی مسجد ہے جس کی پیمائش صرف 4×3 میٹر ہے۔ غالباً اس کی آخری تعمیر بھی عثمانی سلطان عبدالمجید اوّل کے دور میں ہوئی۔
مدینہ منورہ کی زیارات اور عمرہ سے متعلق مزید معلومات کے لیے:
عمرہ سروسز |
عمرہ کا مسنون طریقہ |
زیارات مکہ و مدینہ |
عمرہ پیکجز



