
Religions and Languages in Malaysia
October 16, 2023
حج کا مسنون طریقہ
November 27, 2023حج اور عمرہ زندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے، اور اس کے بعد مسنون ہے۔ اس کے وجوب کی چھ شرائط ہیں:
- اسلام
- عقل
- بلوغت
- آزادی
- استطاعت
- عورت کے لیے محرم کا ہونا
احرام
عمرہ میں داخل ہونے کی نیت کو احرام کہتے ہیں۔ عمرہ کرنے والے کو احرام باندھتے وقت «لبّیک عمرۃً» یا «اللّٰهم لبّیک عمرۃً» کے الفاظ زبان سے کہنا مستحب ہے۔ اور اگر خوف لاحق ہو یا عورتوں کے لیے ایامِ مخصوصہ شروع ہونے کا اندیشہ ہو تو نیت کے ساتھ یہ دعا بھی پڑھ لیں:
«فان حبسنی حابس فمحلی حیث حبستنی»
یعنی: ’’اگر کسی عارضے نے مجھے روک لیا تو میری نیت وہاں تک ہی ہے جہاں اس نے روک لیا۔‘‘
مرد ایک بغیر سلے تہبند اور ایک چادر میں احرام باندھے گا، یعنی ایسے لباس میں جو بنیان، موزہ، پائجامہ اور قمیص شلوار وغیرہ کی طرح عضو کے برابر سلا ہوا نہ ہو۔ بہتر ہے کہ چادر اور تہبند دونوں سفید ہوں۔ احرام کی نیت کرنے سے پہلے غسل کرنا، خوشبو لگانا، ناخن تراشنا، مونچھیں کاٹنا، موئے زیر ناف مونڈنا اور بغل کے بالوں کی صفائی کرنا مستحب ہے۔
احرام کی دو رکعت کے نام سے دو رکعت نماز پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ ہاں، اگر فرض نماز کے وقت اتفاقاً احرام باندھنا پڑ جائے تو پہلے فرض نماز پڑھ لے، پھر احرام باندھ لے۔
عورت کے لیے احرام کا کوئی مخصوص رنگ کا لباس نہیں، جیسے کالا یا سبز، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔ محرمہ عورت کے لیے دستانے پہننا یا نقاب لگانا جائز نہیں۔ اس لیے کہ یہ دونوں عضو کے برابر سلے گئے ہیں۔ اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’محرمہ عورت نہ نقاب لگائے اور نہ دستانے پہنے۔‘‘ [بخاری]
لیکن وہ اجنبی مردوں سے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دستانے اور نقاب کے علاوہ دوسرے کپڑے سے چھپائے رکھے گی۔
تلبیہ
احرام باندھنے کے بعد تلبیہ پکارنا یعنی:
«لبّیک اللّٰهم لبّیک، لبّیک لا شریک لک لبّیک، إن الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک»
کہنا مسنون ہے۔ اس کا مفہوم ہے: ’’میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، یقینا سب تعریف تیرے ہی لیے ہے، ساری نعمتیں تیری ہی ہیں اور ساری بادشاہت تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘
مرد بلند آواز سے تلبیہ پکاریں گے اور عورتیں پست آواز سے۔ طواف شروع کرتے وقت عمرہ کرنے والا تلبیہ یعنی ’’لبیک‘‘ پکارنے سے رک جائے گا۔
احرام کا لباس اگر میلا ہو جائے تو اس کو نکالنا اور بدلنا جائز ہے۔ احرام کا لباس محرم اپنے گھر میں سفر سے پہلے پہن سکتا ہے، لیکن احرام کی نیت میقات کے پاس ہی کرے گا۔
طواف
طوافِ کعبہ کے سات چکر لگانے ہیں۔ ہر چکر حجر اسود کے سامنے سے شروع ہوگا اور اسی پر ختم ہوگا۔ عمرہ کرنے والا طواف کے دوران کعبہ کو اپنی بائیں جانب رکھے گا۔
عمرہ کرنے والے کو طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرنا مسنون ہے۔ رمل قریب قریب قدم رکھ کر تیز چلنے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح پورے طواف میں اضطباع کرنا سنت ہے۔ اضطباع اپنی چادر کے درمیانی حصے کو اپنے دائیں کندھے کے نیچے کرنے اور اس کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر رکھنے کو کہتے ہیں۔ عمرہ کرنے والا جب طواف سے فارغ ہو جائے تو اضطباع ختم کر دے گا۔
طواف کرنے والے کو حجر اسود کا استلام کرنا، یعنی اپنے ہاتھ سے اسے چھونا، اور اس کے پاس سے گزرتے وقت اسے بوسہ دینا مسنون ہے۔ اگر بوسہ نہ دے سکے تو اپنے ہاتھ سے اسے چھوئے اور اپنے ہاتھ کو بوسہ دے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی چیز سے جو اس کے پاس ہو، جیسے چھڑی وغیرہ سے اسے چھوئے، لیکن اس چیز کو بوسہ نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دور سے ہی اپنے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرے، مگر ہاتھ کو بوسہ نہ دے۔
طواف میں حجر اسود کو چھوتے وقت یا اس کی طرف اشارہ کرتے وقت ’’اللّٰہ اکبر‘‘ کہنا مسنون ہے۔ طواف کرنے والے کے لیے رکن یمانی کو اپنے ہاتھ سے چھونا مسنون ہے، نہ کہ بوسہ دینا۔ اگر بھیڑ کی وجہ سے اسے چھو نہ سکے تو اشارہ نہیں کرے گا۔ دونوں رکن شامی کو بوسہ دینا یا ان کی طرف اشارہ کرنا مشروع نہیں، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔
حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:
«رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»
طواف کے ہر چکر کے لیے کوئی خاص ذکر یا دعا ثابت نہیں۔ بلکہ دورانِ طواف قرآن پڑھنا یا اللہ کے نبی ﷺ سے وارد شدہ دعاؤں میں سے دعا کرنا جائز ہے۔
طواف کے لیے وضو شرط ہے۔ اگر طواف کی حالت میں وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کرے گا اور از سر نو پورا طواف دہرائے گا۔ اگر حالتِ طواف میں فرض نماز کھڑی ہو جاتی ہے تو وہ نمازیوں کے ساتھ نماز پڑھے گا، پھر اپنا بقیہ طواف پورا کرے گا۔ جس کو طواف کے چکروں میں شک پڑ جائے کہ کتنے چکر لگائے ہیں تو وہ کم تعداد کو راجح قرار دے کر بقیہ چکر پورے کر لے۔
مقام ابراہیم
طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے۔ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھے گا۔ مقام ابراہیم کے پاس نماز کے لیے جاتے ہوئے اللہ کا فرمان:
«وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى»
’’تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔‘‘ پڑھنا مسنون ہے۔ اگر بھیڑ کی وجہ سے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نہ پڑھ سکے تو مسجد کے کسی دوسرے حصے میں پڑھ لے۔ دو رکعت نماز سے فراغت کے بعد آب زمزم پینا مستحب ہے۔
سعی
سعی صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر ہیں۔ صفا سے شروع کرے گا اور مروہ پر ختم کرے گا۔ پہلے چکر میں صفا کے قریب ہوتے وقت اللہ کا فرمان:
«إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ»
پڑھنا اور اس کے بعد «أبدأ بما بدأ اللّٰه به» کہنا مسنون ہے۔ یہ صرف سعی کے پہلے چکر میں کہے گا۔
صفا پر اتنا چڑھنا مستحب ہے کہ کعبہ کو دیکھ لے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھے:
«اللّٰه أكبر، اللّٰه أكبر، اللّٰه أكبر»
اس کے بعد تین مرتبہ:
«لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك له، أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده»
پڑھے، اس کے بعد جو چاہے دعا کرے۔ جب مروہ پر جائے تو بھی یہی دعا پڑھنے کے بعد اپنی جو چاہے دعا کرے۔
سعی کرنے والا جب دو سبز نشانوں کے درمیان سے گزرے تو اس شرط کے ساتھ تیزی سے چلے کہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ باقی سعی کی جگہ میں عام چال چلے۔ سعی کے دوران اس کا احرام اس کے دونوں کندھوں پر رہے گا۔ اگر دورانِ سعی نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے نماز پڑھ لے، پھر اپنی بقیہ سعی مکمل کر لے۔ سعی میں کوئی خاص دعا یا ذکر نہیں بلکہ جو چاہے دعا کر سکتا ہے۔ سعی کے لیے اگرچہ وضو شرط نہیں لیکن باوضو ہونا افضل ہے۔
بال منڈوانا یا چھوٹے کروانا
سر کے بال منڈوانا یا چھوٹے کروانا عمرہ کے واجبات میں سے ہے۔ بالوں کو منڈوانا ان کو چھوٹا کروانے سے افضل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی اور چھوٹا کروانے والوں کے لیے ایک بار۔
سر کی تمام جانب سے پورے طور پر بال چھوٹا کرانا ضروری ہے۔ ایک طرف کے چھوٹے کرانا جبکہ دوسری طرف کے چھوڑ دینا کافی نہیں۔ عورت اپنے سر کے بال چھوٹے کروائے گی اور وہ اس طرح کہ اپنے بالوں کی ہر چوٹی سے انگلی کے سرے کے برابر کاٹ لے گی۔
بال منڈوا لینے یا چھوٹا کروا لینے کے بعد عمرہ کرنے والا اپنے احرام سے حلال ہو جائے گا اور اس سے اس کا عمرہ پورا ہو جائے گا۔
سب سے آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہر اچھی بات کو سننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



