
سبعہ مساجد مدینہ منورہ
June 5, 2019
غلاف کعبہ
June 19, 2019کعبۃ اللہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ ہے اور یہ گھر مکہ مکرمہ جیسی عظیم الشان سرزمین میں واقع ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا سرزمینِ مقدس سے دلی و جذباتی لگاؤ ہے۔ اسلام کی تاریخ یہیں سے شروع ہوتی ہے اور توحید کی دعوت کا آغاز یہیں سے ہوا۔ دین کے لیے جس جذبۂ قربانی و خودسپردگی کی ضرورت ہے، اس کی جھلک اسی جگہ کے واقعات میں پوشیدہ ہے۔ دینی حیثیت کے ساتھ ساتھ اقتصادی، معاشرتی، ادبی اور تاریخی اعتبار سے بھی مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ اس سرزمین پر اللہ تعالیٰ نے آخری پیغمبر ﷺ کو مبعوث فرما کر اور ان پر قرآن کریم نازل فرما کر، نیز ان کی دعوت کو عالمی اور دائمی دعوت کا امتیاز عطا فرما کر، اس سرزمین اور اس کی تاریخ کو ایسی معنویت عطا فرما دی ہے جس کا بیان الفاظ کے ذریعے ممکن نہیں۔ بتوفیقِ اللہ اس مقدس سرزمین کا مختصر خاکہ پیشِ خدمت ہے۔
لفظ مکہ ایک تعارف
لفظ مَکہ یا مَک یا مَلکَک سے مشتق ہے اور مَک دھکیلنے اور جذب کرنے کو کہا جاتا ہے، اس لیے کہ لوگ اس مقدس شہر میں چلنے اور طواف کرنے میں ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں اور یہ ارضِ مقدس گناہ گار انسانوں کے گناہ کو جذب کر لیتا ہے۔ (تاریخ العروس 6/462، شفاء الغرام 1/54 وغیرہ)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ شہر کرۂ ارض کے وسط میں واقع ہے اور دنیا بھر کے دریاؤں اور چشموں کے پانی کا منبع بھی ہے۔ اس طرح تمام روئے زمین مکہ مکرمہ کے پانی سے سیراب اور فیض یاب ہو رہی ہے۔ (لسان العرب 6/360)
مکہ مکرمہ کی وجہ تسمیہ
قرآن مجید میں اس سرزمینِ پاک کو مکہ، بکہ، ام القریٰ، وادی غیر ذی ذرع جیسے ذی شان ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ مکہ اور بکہ حقیقت میں ایک ہی لفظ ہے، لیکن بکہ کی باء میم بدل کر مکہ بن گیا ہے، جس طرح لفظ ’’لازم‘‘ اصل میں ’’لازب‘‘ تھا مگر باء میم کے ساتھ تبدیل ہوگئی اور لازم استعمال ہونے لگا۔ (تفسیر کبیر 3/301، تفسیر قرطبی 4/138، تفسیر البغوی 1/385)
امام لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مکہ کو ’’مکہ‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں ہر ظالم و جابر جب وہ ملحدانہ فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی گردنیں جھک جاتی ہیں۔ (تاریخ مکہ و مکرمہ و بیت الحرام للدکتور وصی اللہ عباس، ص: 40)
ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مکہ کو ’’مکہ‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ لوگ راستے میں چلتے ہوئے بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکیلتے اور چیر پھاڑ کر نکلتے ہیں۔ ’’كان الناس يبك بعضهم بعضا في الطريق‘‘ (تاج العروس 6/436)
ولادت مکہ مکرمہ
پانی کی سطح پر ابھرنے والا وہ مقدس مقام جسے زمین کی پیدائش سے تقریباً دو ہزار سال قبل اللہ تعالیٰ نے وجود بخشا، وہ مکہ مکرمہ ہی کی زمین تھی۔ پھر اس کے نیچے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے زمین بچھا دی۔ (تاریخ کعبہ، ص: 34)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دنیا کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے پانی کے چار ستونوں پر کھڑا کر کے مکہ مکرمہ بنایا گیا جن کی بنیادیں ساتویں زمین تک گہری تھیں، پھر زمین اس کے نیچے سے پھیلا دی گئی۔ (مصنف عبدالرزاق 5/92، تفسیر طبری 1/547)
عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کو اللہ تعالیٰ نے زمین کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل پیدا فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا، پھر عرش کے نیچے زمین کو بچھا دیا گیا۔ (تفسیر طبری 4/13)
مجاہد یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کعبہ کو بنایا، پھر اس کے نیچے زمین کو بچھا دیا گیا۔ (تفسیر طبری 4/13)
تفسیر کبیر میں ایک روایت آئی ہے کہ مکہ مکرمہ روئے زمین کے وسط میں واقع ہے اور یہ زمین کی ناف ہے، اس لیے اسے ام القریٰ بھی کہا جاتا ہے اور یہ بیت المعمور کا سایہ ہے۔ (معجم البلدان 7/256، تفسیر کبیر 3/9)
یہ تمام اقوال اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ مکہ مکرمہ کی سرزمین دنیا کی تمام زمین سے پیدائش کے اعتبار سے قدیم ہے۔
مکہ اور بکہ کے درمیان فرق
علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ’’بکہ‘‘ صرف ’’بیت اللہ شریف‘‘ ہے اور اس کے ماسوا پورا شہر ’’مکہ‘‘ ہے اور بکہ ہی وہ مقام ہے جہاں طواف کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طواف صرف حرم کے اندر ہی جائز ہے، باہر نہیں، کیونکہ باہر کا حصہ مکہ میں شمار ہوتا ہے۔ یہی قول امام مالک، امام ابراہیم نخعی، امام عطیہ اور امام مقاتل کا ہے۔ (معجم البلدان 8/134، ابن کثیر 1/383، تفسیر طبری 4/6)
امام ابی جعفر فرماتے ہیں کہ ایک عورت طواف کرتے ہوئے ایک نمازی کے سامنے سے گزر گئی۔ اس آدمی نے اس عورت کو دھکا دیا تو وہ عورت رونے لگی۔ اس لیے بکہ طواف کرنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے۔ (تفسیر طبری 4/8)
قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بکہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں مخلوط مرد و عورت ایک دوسرے کے آمنے سامنے نماز پڑھتے ہیں، جب کہ دوسری جگہ ایسا کرنا درست نہیں، اس لیے اس کو ’’بکہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ (تفسیر طبری 4/8)
ان تمام اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ بکہ طواف کرنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے اور مکہ پورے حدودِ حرم کو کہا جاتا ہے۔
مکہ مکرمہ کے حدود اربعہ
محمد بن حوقل التوفی 367ھ نے 331ھ میں لکھا تھا کہ مکہ مکرمہ کی حد شمالاً و جنوباً طول معلا سے مسفلہ تک 3 میل اور اجیاد کے نیچے سے قعیقان کی پشت تک عرض 2 میل ہے۔ (صورت الارض، ص: 28)
امام المؤرخین علامہ تقی الدین فاسی رحمہ اللہ المتوفی 833ھ نے حدودِ اربعہ اس طرح بیان فرمائی ہیں: ’’باب معلاء سے باب ماجن تک 4472 ذراع اور باب معلاء سے شبیکہ تک 4492 ذراع۔‘‘ (شفاء الغرام، ج 2/69)
مولانا عبدالسلام ندوی رحمہ اللہ نے 1342ھ میں حدود کی تفصیلات اس طرح بیان فرمائی تھیں کہ مکہ مکرمہ کے پہاڑوں کا شمالی سلسلہ مغربی جانب میں جبل فلج، جبل قعیقعان، جبل ہندی، جبل لعلع اور جبل کداء پر مشتمل ہے۔ یہ تمام پہاڑی سلسلہ شہر کے بالائی حصے میں واقع ہے۔ جنوبی حصے کی مغربی جانب جبل ابی حدیدہ اور جبل کداء، جو جنوب کی طرف مڑ جاتا ہے، واقع ہیں۔ پھر جبل ابی قبیس جو ان دونوں کے مشرق جانب ہے، سے گھرا ہے اور اس کے بعد جبل خندمہ ہے۔ (تاریخ حرمین شریفین لندی، ص: 27)
علامہ محمد لبیب البتونی نے 1329ھ میں حسبِ ذیل حدود بیان فرمائی ہیں: شمالاً و جنوباً 3 کلومیٹر لمبا اور شرقاً و غرباً جبل ابی قبیس سے جبل قعیقعان تک 1.5 کلومیٹر چوڑا ہے۔ (الرحلہ الحجازیة، ص: 160، لمحمد لبیب بتونی مصری رحمہ اللہ)
دخول و خروج مکہ مکرمہ کے راستے
اس شہر میں داخل اور خارج ہونے کے لیے قدیم زمانے میں صرف تین راستے تھے۔ یہ راستے بقول علامہ ازرقی رحمہ اللہ درج ذیل ہیں:
1- طریق کداء: یہ سڑک عراق اور عرفات کی طرف جاتا ہے۔
2- طریق یمن: یہ راستہ یمن کی سمت جاتا ہے۔
3- طریق جدہ: یہ سڑک مدینہ منورہ، جدہ، شام، مصر وغیرہ کی طرف جاتی ہے۔
(اخبار مکہ، ص: 30)
علامہ تقی الدین فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس دور میں دروازے وغیرہ تو قطعی ختم ہو چکے تھے، بلکہ ان سے کہیں دور دور تک آبادی پھیل گئی تھی اور اب تین کے بجائے چار راستے بن گئے تھے:
1- مشرق: دو سڑکیں، ایک باب الشرائع اور دوسرا طریقہ منیٰ۔
2- شمال: تین سڑکیں، باب اللصوص، باب ریع، باب اذاخر۔
3- مغرب: چار سڑکیں، باب جدہ، ریع ابی لہب، ریع الکحل اور درب الہنداویہ۔
4- جنوب: تین سڑکیں، طریق المفجر، ریع کدی اور طریق مسفلہ۔
(تاریخ القدیم 2/69)
مکہ مکرمہ کی ابتدائی آبادی
اس لق و دق صحرا کو گل گلزار اور چمن زار بنانے والے پہلے شخص اسماعیل علیہ السلام اور ہاجرہ علیہا السلام ہیں، جنہیں ابراہیم علیہ السلام نے حکمِ الٰہی سے اس بے آب و گیاہ ریگستان اور سنگلاخ و ناہموار ٹیلے میں تھوڑا سا پانی اور مشکیزہ بھر کر پانی دے کر اللہ تعالیٰ کے حوالے کر آئے تھے۔ اس سے قبل یہ ایک ہولناک اور وحشت انگیز بیابان ٹیلہ تھا۔ اسی چیز کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ
’’اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ شریف میں ہے، جو تمام دنیا کے لیے بابرکت و ہدایت والا ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران، 96)
اس آیت سے پتہ چلا کہ سب سے پہلے اسماعیل علیہ السلام نے اس شہرِ مقدس کو آباد کیا تھا، البتہ اطراف و اکناف میں قبیلہ جرہم آباد تھا، جو بعد میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے ازدواجی سلسلے میں منسلک گیا۔ (ماخوذ: تاریخ مکہ مکرمہ لمحمد عبدالمعبود، ص: 71)
مکہ مکرمہ میں سیلابوں کی ایک جھلک
اس شہرِ خوباں میں نہ تو کوئی دریا ہے اور نہ ہی ندی نالہ، مگر اس کے باوجود نہ صرف شہر بلکہ اللہ کے مقدس گھر کو بھی متعدد بار سیلاب سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا رہا۔ چنانچہ زمانۂ جاہلیت میں ایک تباہ کن سیلاب آیا تھا جس سے کعبہ شریف منہدم ہوگیا تھا۔ اسی وجہ سے قبیلۂ جرہم کو نئے سرے سے کعبہ شریف تعمیر کرنا پڑا۔ ظہورِ اسلام کے بعد پہلا تباہ کن سیلاب 17ھجری میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں آیا تھا، جو ’’ام نہشل‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ (تاریخ القویم 2/201)
اس کے بعد آخر میں 22 جنوری 1969ء، مطابق 1389ھ، کو بدھ کے دن صبح کے وقت موسلا دھار بارش ہوئی اور حرم شریف جل تھل ہوگیا۔ مطاف میں قرآن مجید کی الماریاں کشتی کی طرح پانی پر تیر رہی تھیں۔ بنا بریں شہر مکہ اور کعبۃ اللہ بیسیوں مرتبہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنا۔ (اعلام الاعلام، ص: 76، شفاء الغرام بعنوان سیلا مکہ، تقی الدین فاسی المتوفی 832ھ)
آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ اس مقدس شہر کو تا قیامت عظمت، جلالت و شرف پر باقی رکھے اور ہر قسم کی ظاہری و باطنی گندگیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
مکہ مکرمہ، عمرہ اور زیارات کے بارے میں مزید معلومات کے لیے:
عمرہ سروسز |
عمرہ کا مسنون طریقہ |
زیارات مکہ و مدینہ |
عمرہ پیکجز



