
Austria Visa Information
February 19, 2019
Umrah Guide In Urdu
March 9, 2019مشہور تاریخی روایات کے مطابق کعبہ کی تعمیر متعدد مرتبہ کی گئی۔ اس کی پہلی تعمیر فرشتوں نے کی جو مرورِ زمانہ کے ساتھ ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی جگہ پر اس کی دوبارہ تعمیر سیدنا اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدد سے کی۔ اس موقع پر کعبہ سادہ پتھروں کی عمارت تھی جو بغیر سیمنٹ وغیرہ کے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔ اس کی تیسری تعمیر قریش نے کی جو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہونے کے ناتے اس کے متولی تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے تقریباً پانچ سال قبل بھی کعبہ کی تعمیر کی گئی تھی۔ اس موقع پر مختلف عرب قبائل نے اس میں حصہ لیا۔ ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہ حجرِ اسود نصب کرنے کی سعادت اسے حاصل ہو۔ نوبت کشت و خون تک جا پہنچی۔ بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ اگلی صبح جو شخص کعبہ میں داخل ہوگا، اس کا فیصلہ قبول ہوگا۔ اگلے دن تمام قبائل کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ کعبہ میں سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ سب ہی لوگ آپ کی صداقت، امانت اور دیانت دارانہ فیصلوں کے قائل تھے۔ آپ نے اس قضیے کا فیصلہ یہ فرمایا کہ اپنی چادر بچھا کر اس پر حجرِ اسود رکھ دیا اور تمام قبائل کے نمائندوں کو اس کے کنارے پکڑا دیے۔ انہوں نے چادر اٹھائی اور آپ نے اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود نصب فرما دیا۔ اس طرح سب لوگ مطمئن ہوگئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعلانِ نبوت سے قبل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرب معاشرے میں کیا مقام حاصل تھا۔
قریش کی تعمیر میں کچھ رقم کم پڑ گئی تھی کیونکہ انہوں نے اس کا اہتمام کیا تھا کہ صرف حلال کمائی ہی کعبہ کی تعمیر میں استعمال ہوگی۔ اس وجہ سے کعبہ کی تعمیر مکمل ابراہیمی بنیادوں پر نہ ہوسکی۔ اس کا کچھ حصہ باہر رہ گیا جس کے گرد دیوار بنا دی گئی۔ یہ دیوار حطیم کہلاتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ خواہش تھی کہ آپ اسے دوبارہ ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر فرمائیں۔
صحیحین کی روایت کے مطابق آپ نے فتح مکہ کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور یہ بھی فرمایا کہ، ”ابھی تمہاری قوم کے لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں۔ اگر ان کے مرتد ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ایسا کر گزرتا۔“ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے زمانے میں شامی افواج کی سنگ باری سے کعبہ کی چھت جل گئی تھی۔ آپ نے اس کی تعمیر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق ابراہیمی بنیادوں پر کی۔
آپ کی شہادت کے بعد عبد الملک بن مروان نے آپ کے کیے ہوئے اضافوں کو گرا کر اس کی صورت قریش کی تعمیر کی طرح کردی۔ بعد میں جب اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث معلوم ہوئی تو اسے اس کا افسوس ہوا لیکن اس نے عمارت کو ایسے ہی رہنے دیا۔ ولید بن عبد الملک کے دور میں اس کے حکم پر کعبہ کے دروازے، پرنالے اور اندرونی ستونوں پر سونے کا کام کیا گیا۔ بعد میں کئی بادشاہوں نے کعبہ کی تعمیر کی خواہش کا اظہار کیا لیکن علماء نے اس کی سختی سے مخالفت کی کیونکہ اس صورت میں یہ ایک کھیل بن جاتا اور جس کا جی چاہتا، کعبہ کو گرا کر اس کی تعمیر کرتا رہتا۔
کعبہ اور مکہ مکرمہ کی دیگر اہم تاریخی زیارات کے بارے میں مزید معلومات کے لیے
زیارات مکہ و مدینہ
ملاحظہ کریں۔
عمرہ کے مناسک اور مسنون طریقے کے بارے میں
عمرہ کا مسنون طریقہ
پڑھیں۔
عمرہ اور اس سے متعلق سفری خدمات کے لیے
عمرہ سروسز
اور دستیاب
عمرہ پیکجز
دیکھیں۔



