
مسجد جعرانہ اور مقام جعرانہ
August 4, 2019
مقام تنعیم اور مسجد عائشہ
August 6, 2019وادی کاغان، ضلع مانسہرہ، خیبر پختونخوا کی ایک حسین وادی ہے جو اپنے قدرتی حسن کے باعث عالمگیر شہرت کی حامل ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع کئی معروف تفریحی اور حسین مقامات اسی وادی میں واقع ہیں۔ 8 اکتوبر 2005ء کو آنے والے تباہ کن زلزلے سے اس وادی کو بھی نقصان پہنچا۔ وادی کاغان کا نام کاغان نامی قصبے سے پڑا۔ دریائے کنہار اس وادی کے قلب میں بہتا ہے۔
یہ وادی 2134 میٹر سے درۂ بابوسر تک سطح سمندر سے 4173 میٹر تک بلند ہے اور 155 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں کی آبادی پشتو اور اردو بخوبی جانتی ہے۔ یہ علاقہ جنگلات اور چراگاہوں سے اٹا ہوا ہے اور خوبصورت نظارے اس کو زمین پر جنت بناتے ہیں۔ یہاں 17 ہزار فٹ تک بلند چوٹیاں بھی واقع ہیں، جن میں مکڑا چوٹی اور ملکہ پربت شہرت کی حامل ہیں۔
وادی کاغان کا قدرتی حسن
پہاڑوں، ندی نالوں، جھیلوں، آبشاروں، چشموں اور گلیشیئروں کی یہ وادی موسمِ گرما (مئی تا ستمبر) میں سیاحوں کی منتظر رہتی ہے۔ مئی میں یہاں کا زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 11 اور کم از کم 3 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ جولائی کے وسط سے ستمبر کے اختتام تک ناران سے درۂ بابوسر کا راستہ کھلا رہتا ہے۔
برسات اور موسمِ سرما میں وادی میں نقل و حمل مشکل ہو جاتی ہے۔ اس حسین وادی تک بالاکوٹ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے باآسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ بالاکوٹ سے باآسانی بسوں یا دیگر ذرائع نقل و حمل سے کاغان یا ناران پہنچا جا سکتا ہے۔
بالاکوٹ سے ناران تک کے تمام راستے میں دریائے کنہار ساتھ ساتھ بہتا رہتا ہے اور حسین جنگلات اور پہاڑ دعوتِ نظارہ دیتے رہتے ہیں۔ راستے میں کیوائی، پارس، شینو، جرید اور مہانڈری کے حسین قصبات بھی آتے ہیں۔
وادی کاغان کے مشہور سیاحتی مقامات
سیف الملوک جھیل، آنسو جھیل، بابوسر ٹاپ، شوگران اور دیگر کئی مقامات سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔



