
تھائی لینڈ کا ویزہ
July 1, 2019
حج کا مسنون طریقہ ویڈیو بیان
July 15, 2019جبل ثور مکہ مکرمہ کے جنوبی محلے کدی میں واقع ہے، جہاں اب ہجرت ٹاؤن واقع ہے۔ یہ مسجد الحرام سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، سطحِ زمین سے اس کی بلندی 458 میٹر ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 10 مربع کلومیٹر ہے۔
اس پہاڑ کو یہ نام عبدِ مناة کے ثور (بیل) کی نسبت سے دیا گیا، کیونکہ یہ اس کا مسکن تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی شکل بیل کی طرح ہے جو اس پر ہل چلاتا تھا۔
اسی پہاڑ کی چوٹی پر وہ غار موجود ہے جس میں ہجرتِ مدینہ کے وقت نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کفار کی نظروں سے اوجھل ہونے کے لیے تین دن قیام فرمایا تھا۔ غار کے دو دروازے ہیں، ایک اس کے شروع میں اور دوسرا اس کے آخر میں۔ غار کا رقبہ تقریباً دو مربع میٹر بتایا جاتا ہے۔
غارِ ثور کا ذکر قرآن کریم میں
اس غار کے بارے میں قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اگر تم ان (نبی ﷺ) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی، اس وقت جب انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا، جبکہ وہ دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ نے اپنی طرف سے اس پر تسکین نازل فرمائی اور ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں۔ اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند و عزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے۔ اللہ غالب، حکمت والا ہے۔”
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ غار میں نبی کریم ﷺ کی معیت میں تھے۔ انہوں نے مشرکین کے آثار دیکھے تو عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “اے ابوبکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔”
جبل ثور اور عمرہ زائرین
جبل ثور مکہ مکرمہ کے ان تاریخی مقامات میں شامل ہے جو ہجرتِ مدینہ کے واقعے کی یاد دلاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور عمرہ سے متعلق مزید معلومات کے لیے درج ذیل صفحات ملاحظہ کریں:
عمرہ سروسز |
عمرہ کا مسنون طریقہ |
زیارات مکہ و مدینہ |
عمرہ پیکجز



