
فرہ نانگ(Phra Nang) تھائی لینڈ کا ساحلی شہر
August 7, 2019
ترکی کا ویزہ
August 8, 2019آج کل ترکی کے شہر استنبول کے مشہور ترین مقامات میں جامع مسجد سلیمانیہ بھی شامل ہے، جسے دنیا بھر سے آنے والے مختلف مذاہب کے سیاح دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ مسجد سلطان سلیمان اول کے حکم پر مشہور عثمانی ماہرِ تعمیرات معمار سنان پاشا نے تعمیر کی۔ مسجد کی تعمیر کا آغاز 1550ء میں ہوا اور 1557ء میں مکمل ہوئی۔
مسجد سلیمانیہ کو بازنطینی طرزِ تعمیر کے شاہکار چرچ ایاصوفیہ کے مقابلے میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اسے مسیحی طرزِ تعمیر کا عظیم شاہکار قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ اس کے گنبد سے بڑا کوئی گنبد تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ ایاصوفیہ کو فتحِ قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد ثانی نے مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے سنان پاشا نے مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا اور یہ عظیم شاہکار تخلیق کیا۔
مسجد سلیمانیہ کی لمبائی 59 میٹر اور چوڑائی 58 میٹر ہے۔ اس کا گنبد 53 میٹر بلند اور 57.25 میٹر قطر کا حامل ہے۔ مسجد کے چار مینار ہیں۔ مسجد کے علاوہ صحن، لنگر خانہ، دارالشفاء، مدرسہ، دارالحدیث اور ایک حمام بھی تعمیر کیے گئے۔ مسجد سے ملحقہ باغیچے میں سلطان سلیمان اول اور ان کی اہلیہ کے مزارات ہیں، جبکہ سلطان کی صاحبزادی محرمہ، والدہ دل آشوب صالحہ اور ہمشیرہ عائشہ کی قبریں بھی موجود ہیں۔ سلیمان ثانی، احمد ثانی اور مصطفیٰ ثانی کی صاحبزادی صفیہ بھی یہیں مدفون ہیں۔ مسجد کی دیواروں کے ساتھ شمال کی جانب سنان پاشا کا مقبرہ ہے۔
1660ء میں آتش زدگی کے نتیجے میں مسجد کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد سلطان محمد چہارم نے اس کی بحالی کا کام کرایا۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران مسجد میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد مسجد کی آخری تزئین و آرائش 1956ء میں کی گئی۔
ترکی کا تعارف اور مزید معلومات یہاں دیکھیں۔
ترکی سے متعلق مزید پوسٹس یہاں دیکھیں۔
استنبول سے متعلق مزید پوسٹس یہاں دیکھیں۔
مزید معلومات کے لیے: مقامات اور سیاحت



