
ملائشیا کا ویزہ
August 11, 2019
مقامِ ابراہیم
August 14, 2019ارضِ حجازِ مقدس کے کئی پہاڑ نورِ نبوت کے عینی شاہد اور اس سرزمین پر ظہورِ اسلام کے گواہ ہیں۔ انہی پہاڑوں میں جبل النور بھی ہے جسے پرانے دور میں جبلِ حرا کہا جاتا تھا۔ اسی پہاڑ کے اوپر غارِ حرا واقع ہے، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعلانِ نبوت سے قبل عبادت کے لیے جایا کرتے تھے۔ یہی وہ مقامِ مقدس ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ پہلی وحی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔
یہ پہاڑی مسجدِ حرام سے شمال مشرق میں 642 میٹر بلند ہے۔ اس کی چوٹی اونٹ کی کوہان کی طرح بلند ہے۔ جبل النور مکہ سے طائف اور پھر ریاض جانے والی سیل ہائی وے کے کنارے واقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی یہ راستہ ہی رہا ہوگا۔ آپ کے گھر سے پیدل یہاں تک 8 سے 10 کلومیٹر کا فاصلہ ہوگا۔ جبل النور کا سلوپ کافی زیادہ ہے۔ شروع میں اس پر چڑھتے ہوئے راستہ 45 ڈگری کے زاویے پر اٹھتا ہے اور درمیان میں جا کر تقریباً 60 ڈگری کے زاویے پر مڑ جاتا ہے۔ پہاڑی کے درمیان تک روڈ بنا ہوا ہے جہاں گاڑی جا سکتی ہے، جبکہ آگے پیدل ٹریک ہے۔
راستے کے شروع میں سعودی حکومت کی جانب سے ایک بورڈ لگایا گیا ہے جس پر عربی، انگریزی، اردو، فرانسیسی اور ایک آدھ اور زبان میں یہ تحریر درج ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑی پر چڑھنا، اس پر نماز پڑھنا، اس کے پتھروں کو چھونا، اس کے درختوں پر گرہیں لگانا، اس کی مٹی، پتھر اور درختوں کی شاخوں کو بطور یادگار استعمال کرنا مشروع نہیں کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع ہی میں ہمارے لیے بھلائی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دین کو اسی طرح لینا چاہیے جیسا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ آپ نے کبھی بھی جبل النور پر چڑھنے، اس پر نماز پڑھنے، اس کے پتھروں کو چھونے یا اس کی مٹی اور پتھر کو ساتھ لے جانے کا حکم نہیں دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہم سے کہیں زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے تھے۔ انہوں نے بھی آپ کی زندگی میں یا آپ کے بعد ایسا نہیں کیا۔ اس لحاظ سے یہ اعمال دین اور شریعت کا حصہ نہیں ہیں۔ البتہ دین اور شریعت سے ہٹ کر ان مقامات کی ایک تاریخی اہمیت ضرور ہے جو کسی بڑی شخصیت کے ساتھ کسی چیز کی نسبت ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔
ہمارا اس پہاڑ پر چڑھنے کا مقصد ان جگہوں کو دیکھنا ہونا چاہیے جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت گزارا تھا۔ ان جگہوں کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور آپ کے معمولات سامنے آتے ہیں۔ ان جگہوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کی بنا پر ایک جذباتی وابستگی بھی ہر مسلمان کو ہوتی ہے، لیکن اسے بہرحال دین اور شریعت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔



