
بقیع الغرقد مدینہ منورہ
August 9, 2019
سنگاپورکا ویزہ
August 11, 2019مکہ معظمہ کی تاریخی مساجد میں مزدلفہ کی مسجد مشعر الحرام بھی ایک تاریخی مسجد ہے۔ اسلام کی تابناک تاریخ کی شاہد مساجد میں مسجد مشعر الحرام کو ہمیشہ ایک یادگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مکہ کی کئی دوسری مساجد کی طرح مسجد مزدلفہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی نسبت رکھتی ہے۔ مزدلفہ میں مسجد مشعر الحرام، عرفات کی تاریخی مسجد نمرہ اور منیٰ کی مسجد الخیف کے درمیان تقریباً برابر فاصلے پر واقع ہے۔
حجۃ الوداع کے لیے آتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کے مقام پر کچھ دیر قیام فرمایا۔ بعد ازاں یہاں پر ایک مسجد تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد قزح نامی پہاڑ پر بنائی گئی ہے اور یوم عرفہ کو غروبِ آفتاب کے بعد حجاج اس مسجد کا رخ کرتے ہیں۔
مسجد مشعر الحرام وہ تاریخی مسجد ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ﴾
یہاں مشعر الحرام سے مسجد مشعر الحرام مراد لی جاتی ہے۔ بعض علماء اس مسجد کو مشعر الحرام اور بعض پورے مزدلفہ کو مشعر الحرام قرار دیتے ہیں۔ تیسری صدی ہجری میں یہاں مربع شکل کی ایک مسجد موجود تھی، مگر وہ بہت چھوٹی تھی اور چھت کے بغیر تھی۔ بعد میں مسلمان سلاطین اور فرمانرواؤں نے اس مسجد کی تعمیر و توسیع کا عمل جاری رکھا۔
موجودہ آل سعود خاندان کے دورِ حکومت میں مسجد کی مشرقاً مغرباً 90 میٹر توسیع کی گئی، جبکہ اس کی چوڑائی بھی بڑھائی گئی۔ اس مسجد میں ایک ہی وقت میں 12 ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد مشعر الحرام کے دو مینار ہیں جن کی اونچائی 32 میٹر ہے۔ مسجد کے شمالی، جنوبی اور مشرقی سمتوں سے داخلی راستے بنائے گئے ہیں۔



