
جائے ولادت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم
August 15, 2019
مسجد قبلتین مدینہ منورہ
August 21, 2019اکثر دوست شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم نے اتنی محنت سے فائل تیار کی، تمام مطلوبہ دستاویزات بھی فراہم کر دیں، پھر بھی ہماری ویزہ درخواست مسترد کر دی گئی یا ویزہ تو دے دیا گیا لیکن متعلقہ ملک میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ ایسا عموماً یورپی ممالک، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا یا ایسے دیگر ممالک کے ویزہ درخواست گزاروں کے ساتھ ہو سکتا ہے جہاں ویزہ جاری کرنے سے پہلے درخواست گزار کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے۔
ذیل میں ایسی کچھ عام غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ویزہ درخواست مسترد ہونے یا سفر کے دوران مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔
1۔ بینک اسٹیٹمنٹ
ناکامی کی ایک بڑی وجہ بینک اسٹیٹمنٹ بھی ہو سکتی ہے۔ بعض لوگ فرضی بینک اسٹیٹمنٹ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن مالی معاملات اور بینک اسٹیٹمنٹ کی جانچ پڑتال میں آمدن اور رقم کے ذرائع کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ملازمت پیشہ افراد کی صورت میں تنخواہ اور بینک میں آنے والی رقم کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، جبکہ کاروباری افراد کے معاملے میں کاروباری لین دین اور ٹیکس دستاویزات بھی اہم ہو سکتی ہیں۔
اگر بینک اسٹیٹمنٹ میں بہت زیادہ کاروباری لین دین ظاہر ہو رہا ہو تو اس کے مطابق ٹیکس دستاویزات اور دیگر مالی ریکارڈ بھی قابلِ مطابقت ہونے چاہئیں۔ اس لیے ہمیشہ حقیقی اور قابلِ تصدیق مالی دستاویزات فراہم کریں۔
2۔ خوداعتمادی اور انٹرویو
کچھ ایمبیسیز میں ویزہ درخواست جمع کروانے کے لیے خود جانا پڑتا ہے۔ اسی دوران درخواست گزار کی ون ٹو ون ملاقات بھی ہو سکتی ہے اور کاؤنٹر پر چند سوالات پر مشتمل مختصر انٹرویو لیا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں درخواست گزار کو تفصیلی انٹرویو کے لیے بھی بلایا جا سکتا ہے۔
کچھ ایمبیسیز ویزہ درخواستیں براہِ راست وصول کرنے کے بجائے اپنی تسلیم شدہ ایجنسیوں کے ذریعے دستاویزات وصول کرتی ہیں۔ درخواست کی جانچ کے بعد ویزہ جاری کرنے یا مسترد کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور بعض معاملات میں مزید وضاحت کے لیے انٹرویو بھی لیا جا سکتا ہے۔
ایمبیسی میں انتظار کے دوران دوسرے درخواست گزاروں سے اپنی درخواست، دستاویزات یا ویزہ کے امکانات پر غیر ضروری گفتگو کرنے سے گریز کریں۔ اپنی درخواست کے بارے میں صرف متعلقہ عملے کو مطلوبہ معلومات فراہم کریں اور انٹرویو کے دوران پُرسکون رہیں۔
3۔ بنیادی رکھ رکھاؤ اور دستاویزات کی ترتیب
ویزہ درخواست کے لیے تمام ضروری دستاویزات مناسب انداز میں ترتیب دے کر لے جانا چاہیے۔ کاغذات کو ایک مناسب فائل میں ترتیب سے رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ دستاویز آسانی سے پیش کی جا سکے۔
اگر آپ نے اپنے تمام کاغذات منظم انداز میں فائل میں رکھے ہیں تو ایمگریشن یا ویزہ ڈیسک پر پہنچ کر ضرورت کے مطابق متعلقہ دستاویز نکال کر افسر کو دیں۔ اصل دستاویزات اس وقت تک فائل میں محفوظ رکھیں جب تک افسر ان کا مطالبہ نہ کرے۔
4۔ موبائل فون کا بے جا استعمال
ایمگریشن یا انٹرویو کے دوران موبائل فون کا غیر ضروری استعمال مناسب نہیں۔ اگر آپ انٹرویو کے لیے جا رہے ہیں تو موبائل فون کو سائلنٹ یا بند کر کے محفوظ جگہ پر رکھیں تاکہ دورانِ انٹرویو کال یا نوٹیفکیشن کی وجہ سے خلل پیدا نہ ہو۔
5۔ لباس اور ظاہری رکھ رکھاؤ
ایمبیسی میں انٹرویو کے لیے جاتے وقت صاف ستھرا اور مناسب لباس پہنیں۔ لباس ایسا ہونا چاہیے جو موقع کے لحاظ سے باوقار اور مناسب ہو۔
6۔ مطلوبہ ملک پہنچنے کے بعد احتیاط
جس ملک کا سفر کر رہے ہیں، وہاں کے امیگریشن قوانین اور داخلے کی شرائط سے پہلے ہی آگاہ ہو جائیں۔ ممکنہ سوالات کے جوابات کی تیاری بھی کریں اور سفر سے متعلق ضروری دستاویزات اپنے پاس رکھیں۔
ایئرپورٹ پر امیگریشن کے دوران پُرسکون رہیں اور اپنی باری آنے پر پاسپورٹ اور مطلوبہ دستاویزات افسر کو پیش کریں۔ افسر آپ سے آپ کے نام، سفر کی تفصیلات، ایئرلائن، روانگی کے مقام، قیام کی مدت، ہوٹل، دستیاب رقم یا سفر کے منصوبے کے بارے میں سوالات کر سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ٹکٹ، ہوٹل بکنگ یا دیگر دستاویزات بھی طلب کی جا سکتی ہیں۔
سوال کا جواب واضح اور مختصر انداز میں دیں۔ غیر ضروری تفصیلات یا غیر متعلقہ گفتگو سے گریز کریں اور افسر کے اگلے سوال کا انتظار کریں۔
اگر آپ نے کسی مخصوص ملک کے لیے ویزہ حاصل کیا ہے تو اپنے سفری منصوبے اور ویزہ کی شرائط سے مطابقت رکھنا ضروری ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان سفر کی صورت میں امیگریشن افسر آپ سے آپ کے سفر کے مقصد اور منصوبے کے بارے میں وضاحت طلب کر سکتا ہے۔
ویزہ درخواست مسترد ہونے میں سابقہ ٹریول ہسٹری بھی بعض معاملات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس لیے درخواست دیتے وقت اپنی سابقہ سفری معلومات اور دستاویزات درست اور مکمل فراہم کریں۔
بشکریہ: کنعان



