
ویزہ کی درخواست کیوں مسترد ہوتی ہے
August 17, 2019
ارض حجاز کی تراسی سالہ پرانی نادر تصاویر
August 24, 2019حجاج کرام اور دیگر زائرین مدینہ منورہ میں زیارات کے لیے جن مقامات کا رخ کرتے ہیں، ان میں مسجدِ قبلتین بھی شامل ہے۔ یہ مسجد مسجدِ نبوی سے تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر بئرِ رومہ کے قریب واقع ہے۔
طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بشر بن براء بن معرور کے ہاں دعوت پر تشریف لائے تھے۔ یہاں ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ تیسری رکعت میں یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حکم کے مطابق اپنا رخ تبدیل کیا۔ چونکہ یہ 180 درجے کی تبدیلی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخالف سمت میں رخ کرنا پڑا ہوگا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنی اپنی جگہ پر ہی اپنا رخ تبدیل کیا ہوگا۔ بعد ازاں اس حکم کی منادی پورے مدینہ میں کی گئی۔ بہت سی دوسری مساجد میں لوگ نماز پڑھ رہے تھے، جنہوں نے حالتِ نماز میں اپنا رخ تبدیل کیا۔
چونکہ ایک نماز دو مختلف قبلوں کی جانب رخ کر کے پڑھی گئی، اس لیے اس مسجد کو مسجدِ قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا مدینہ صرف موجودہ مسجدِ نبوی تک ہی محدود نہ تھا۔



